ابنا: نیپالی وزارت داخلہ کی تازہ ترین رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں دہشتگردانہ سرگرمیوں سمیت 18 طرح کی سنگین مجرمانہ سرگرمیاں دھڑلے سے جاری ہیں۔ بین الاقوامی مجر م گروہوں کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ، انسانی اسمگلنگ، ہتھیار اور منشیات کی اسمنگلنگ اور جعلی نوٹوں کا کاروبار وہ جرائم ہیں جو جرائم جو یہاں دھڑلے سے جاری ہیں۔اتنا ہی نہیں دونوں ممالک کی کھلی سرحد سے اغوا، جبرا وصولی اور ڈکیتی جیسے جرائم کو بھی آسانی سے انجام دیا جا رہا ہے۔ دراصل لشکر طیبہ کے مبینہ دہشتگرد عبد الکریم ٹنڈا اور انڈین مجاہدین کے مبینہ سرغنہ یاسین بھٹکل کی گرفتاری کے بعد نیپالی وزارت داخلہ نے سرحدی علاقوں میں مجرمانہ سرگرمیوں پر حال ہی میں سرحدی علاقوں کی پولس اور ديگر سیکورٹی ایجینسیوں سے رپورٹ منگوائی تھی۔جو رپورٹ نیپالی وزرات داخلہ کو سونپی گئی اس میں واضح کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقے ایک طرح سے دہشتگردوں اور مجرم گروہوں کے اڈے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
.......
/169